Very funny in urdu
ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﺐ ﺍﻣﯿﺪ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺣﮑﯿﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ کہ "ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻢ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﺎ ﺍﺩﺏ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺍ کہ ﻓﻄﺮﺗﺎً بچہ ﺍﺩﺏ ﺁﺩﺍﺏ ﻭﺍﻻ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻭﮮ"
ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺩﻭﺍ ﺩﯼ، ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ، ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﺳﺘﺮ ﭼﮭﭙﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ " ﺁﺩﺍﺏ "
ﺳﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﻡ ﺍﭨﮭﮯ کہ ﻭﺍﮦ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﻻﺩ ﮨﻮﺋﯽ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ
ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮ ﭼﻠﯽ ﺗﻮ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺩﻭﺍ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﮯ ﻟﯽ " اچھا ﮨﯽ ﮨﮯ زیادہ ﺁﺩﺍﺏ ﻭﺍﻻ ﺁﻭﮮ"
ﺟﺐ ﺩﺱ ﺳﮯ ﮔﯿﺎﺭﮨﻮﺍﮞ ﻣﺎﮦ ﮨﻮ ﭼﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻣﺪ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺩﻭﮌﮮ .
ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﺘﺎﻧﺖ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻥ ﺍﮔﺎﻟﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺩﻭﺍ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ؟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﮔﻨﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﺮ ﭘﯿﭧ ﮐﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
" ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺟﮍﻭﺍﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ... ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ"
اللہ ناراض ھو تو کیا ھوتا ھے۔؟
*اللہ ناراض ھو تو کیا ھوتا ھے۔؟*
*بہت سوچنے اور ڈرنے والی باتیں۔۔۔دیکھیں کہیں ھم تو ان میں شامل نہیں۔۔*
*محسوس اور نامحسوس ہونے والی سزائیں*
⚠کسی طالب علم نے اپنے استاد سے کہا :
*"ہم کتنے گناہ* کرتے ہیں نا
اور *اللہ ہمیں سزا نہیں دیتا"*
🔴استاد محترم نے فوراً جواب دیا : یہ بھی سزا ہے کہ اللہ ہمیں سزائیں دیتا ہےاور ہمیں محسوس نہیں ہوتا"
⚫تمہارے *دل کی سختی اور آنسو* کا
*خشک ہوجانا*
کیا اس بات کی گواہی نہیں ہے کہ
اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہیں ؟؟
🔵 *نیک صالح اعمال کے طرف*
*قدم بڑھانے میں کاہلی*
کیا اس بات کی گواہی نہیں ہے کہ
اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہیں ؟؟
📿تمہیں *قرآن کریم کے تلاوت* چهوڑے
جو *ہفتے اور مہینے* بیت جاتے ہیں
کیا اس بات کی گواہی نہیں ہے کہ
اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہیں ؟؟
⛔کتنی *بار یہ آیت تمهاری نظروں سے*
گزرنے کے بعد بهی *تم انجان* بنے رہتے ہو ؟؟!!
*"اگر یہ قرآن ہم کسی پہاڑ پر نازل فرماتےتو وہ اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا"*
♨کتنی *طویل راتیں تمہارے زندگی* میں گزرتی رہیں لیکن *قیام اللیل* کی
*نوافل سے محروم* رہنا
⁉کیا اس بات کی گواہی نہیں ہے کہ
اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہیں ؟؟
🔴کتنے *خیر وبرکت کے مواقع*
تمہاری زندگی میں آئے ..
{رمضان ،، عید ،، ذوالحجہ}
🔴تمہاری *غفلت اور گناہوں کی دلدل میں غرق* رہنا
کیا اس بات کی گواہی نہیں ہے
کہ اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہیں ؟؟
🔴 *زندگی میں تعلیم وتفسیر قرآن*
سیکھنے کے *بہترین مواقع* آئے
لیکن اسے *نظرانداز* کرکے
*تم دنیاوی لذتوں میں کهوئے* رہے
کیا یہ اس بات کی گواہی نہیں ہے
کہ *اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہیں ؟؟*
🔴کیا اس سے بھی بڑی کوئی
سزا ہوسکتی ہے ؟؟!!
🔴 *نیک عمل* تمہیں *بوجھ*
جیسا کیوں *محسوس* ہوتا ہے ؟؟!!
🔴 *اللہ تعالیٰ کا ذکر* کرتے ہوئے
*زبان کیوں لڑکھڑانے* لگتی ہے ؟؟!!
🔴اپنی *شیطانی ونفسانی خواہشات* کے
سامنے تم *کمزور* کیوں پڑجاتےہو ؟؟!!
🔴 *دنیاوی چکاچوند روشنیوں کو دیکھ کرتمہارا دل کیوں تڑپنے* لگتا ہے ؟؟!!
🔴کیا *تم دنیا ، پیسے اور عزت وشہرت*
کے *غرور میں مبتلا* نہیں ہوئے ؟؟!!
⚫ بهلا اس سے بڑھ کر کوئی
سزا ہوسکتی ہے ؟؟!!
🔴اللہ نے *تمہیں اپنی غلطیاں بهلا* کر
دوسروں کی عیب جوئی ، جهوٹی
اور *بہتان تراشی میں مصروف* کردیا
🔴 *آخرت بهلا کر تمہاری سب سے بڑی تمنا دنیا اور اسے حاصل* کرنا بنادیا ..
⛔کیا یہ بهی *سزا کی ایک شکل* نہیں ہے ؟؟!!
🔵تم نے کبهی اس *آیت پر دهیان* دیا :
"اللہ تعالیٰ نے ان کے جانے کو پسند نہیں کیااسی لیے انہیں *توفیق بهی نہیں عطا فرمائ اور یوں کہہ دیا گیا کے اپاہج لوگوں کے ساتھ تم بهی یہاں ہی بیٹھے* رہو"سورہ التوبۃ ..
🔔🔴بیٹا ؛؛ *اللہ سے ڈرو ..*
اللہ تعالٰی کے طرف سے
سب سے *چھوٹی سزا مال اولاد*
اور *صحت* میں ہوتی ہے
⁉لیکن سب سے بڑی سزا
غیرمحسوس ہوتی ہے ..
🔴اسے *صرف مومن ہی اپنے دل کے حال تبدیل ہونے پر پہچانتا* ہے ..
🔔 *اللہ سے مغفرت اور عافیت طلب کرو ...
ALLAH RABBUL IZZAT es khubsoorat message ke likhne wale parhne wale share krne wale or especially espe Amal kr
ne walo ko Jaza e khair Ata farmay ...
بانو قدسیہ کا دل ہلا دینے والا مضمون
*بانو قدسیہ کا دل ہلا دینے والا مضمون Plzz read*
*مرد حوّس کا پجاری*
*جب عورت مرتی ھے اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ھے۔ اس کو لحد میں یہی مرد اتارتا ھے*
*پیدائش پر یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ھے۔*
*باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ھے بھائی کے روپ میں تحفظ فراہم کرتا ھے اور شوہر کے روپ میں محبت دیتا ھے۔*
*اور بیٹے کی صورت میں اس کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ھے*
*واقعی بہت ھوس کی نگاہ سے دیکھتا ھے*
*ھوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ھے*
*اسی عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتا ھے*
*اسی عورت کی خاطر اندلس فتح کرتا ھے۔ اور اسی ھوس کی خاطر 80% مقتولین عورت کی عصمت کی حفاظت کی خاطر موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ واقعی ''مرد ھوس کا پجاری ھے۔''*
*لیکن جب ھوا کی بیٹی کھلا بدن لیے، چست لباس پہنے باہر نکلتی ھے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ھے تو یہ واقعی ھوس کا پجاری بن جاتا ھے*
*اور کیوں نا ھو؟*
*کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کے لیے ھی ھوتا ھے۔*
*جب عورت گھر سے باھر ھوس کے پجاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ھے۔ تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو "تنگ نظر" اور "پتھر کے زمانہ کا" جیسے القابات سے نواز دیتی ھے کہ کھلے گوشت کی حفاظت نہیں کتوں بلوں کے منہ سینے چاہیے ھیں*
*ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں لیکر تنگ شرٹ کے ساتھ پھٹی ھوئی جینز پہن کر ساڑھے چارہزار کا میک اپ چہرے پر لگا کر کھلے بالوں کو شانوں پر گرا کر انڈے کی شکل جیسا چشمہ لگا کر کھلے بال جب لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر مرد کی ھوس بھری نظروں کی شکایت کریں تو انکو توپ کے آگے باندھ کر اڑادینا چاہئیے جو سیدھا یورپ و امریکہ میں جاگریں اور اپنے جیسی عورتوں کی حالت_زار دیکھیں جنکی عزت صرف بستر کی حد تک محدود ھے*
*"سنبھال اے بنت حوا اپنے شوخ مزاج کو*
*ھم نے سرِبازار حسن کو نیلام ھوتے دیکھا ھے"*
*مرد*
*میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انھیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ انھوں نے اپنے بچوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر خرچ ہورہا ھے اور ان کے بعد ھمارا کیا ھوگا؟ میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی جب ایک بازارعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا جن کے ھاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رھی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ھوگئی آپ نے کرتا خرید لیا آپ کوئی نئی چپل بھی خرید لیں جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کونسی روز پہنی ھے جو خراب ھوگئی ھوگی، تم دیکھ لو اور کیا لینا ھے بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاؤں گی۔ ابھی میں ساتھ ھوں جو خریدنا ھے آج ھی خرید لو۔*
*میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لئے بھی تحفہ لایا، میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔ میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی گھر اجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ھوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ ابھی میں زندہ ھوں لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ھوتی ھوئی آنکھیں بتارھی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ھوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے لیکن یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں ھے اسے رونے نہیں دیگا۔*
( *بانو قدسیہ*)
آئیے نئے پاکستان کی بنیاد اپنے گھر سے رکھیں
Chineese are great because they understand it only a commerce person can understand it deeply
اگر پاکستان کے 21 کروڑ لوگوں میں سے صرف 30٪ لوگ روزانہ 10 روپے کا جوس پئیں تو مہینے بھر میں تقریبا "1800 کروڑ" روپے خرچ ہوتے ہیں ۔
اور اگر آپ انہی پیسوں سے کوکا کولا یا پیپسی پیتے ہیں
تو یہ "1800 کروڑ" روپے
ملک سے باہر چلے جاتےہیں ....
اصل میں کوکا کولا اور پیپسی جیسی کمپنیاں روزانہ
"3600 کروڑ" سے زیادہ مال غنیمت اس ملک سے جمع کرتی ہیں ...
آپ سے درخواست ہے کہ آپ ...
گنے کے جوس اور پھلوں کے رس وغیرہ کو اپنائیں اور ملک کے "3600 کروڑ" روپے بچا کر ہمارے کسانوں کو دیں ...
"کسان خود کشی نہیں کریں گے .."
پھلوں کے رس کے کاروبار سے
"1 کروڑ" لوگوں کو روزگار ملے گا ... آپ کا یہ چھوٹا سا کام ملک میں خوشحالی لا سکتا ہے۔
مقامی اپنائیں ،
قوم کو طاقتور بنائیں ...
اور یہ میسیج تین لوگوں تک ضرور پہنچائیے ..
میسج رکنا نہیں چاہئے ..
Cocacola
Maggi
Fanta
Garnier
Ravlon
Lorial
Huggies
Pampars
MamyPoko
Libro
Levis
Nokia
Macdownalds
Calvin clin
Kit kat
Sprite
Nestle
Pepsi
KFC
اسی لئے ان کی کمپنی کے مارکیٹ بھاؤ بھی گر گئے ہیں.
🇵🇰please aap ke jitne bhi group hyn us per send Karen
-كولگیٹ
نہیں تھا تو کیا پاکستان میں
لوگ دانت صاف نہیں کرتے تھے؟
-
فئر اینڈ لوّلی نہیں تھی تو کیا سب
پاکستانی عورتیں کالی تھیں
-
.
مقامی اپنائیے ملک بچائیے
اگر
تمام پاکستانی 150
دن تک
کوئی
بھی غیر ملکی سامان
نہیں خریدے ...
.
.
تو پاکستان
دنیا کا دوسرا سب سے
امیر ملک بن سکتا ہے ..
.
.
صرف 150 دن میں ہی پاکستان کے
2 روپے 1 ڈالر کے برابر
ہو جائیں گے ..
.
.
ہم سب کو مل کر
یہ کوشش آزمانی چاہئے
كيونکہ یہ ملک ہمارا ہے.. !!!!
.
.
ہم جو اتنے بیکار کے مسجز فارورڈ کرتے ہیں.
کیوں نہ اسے بھی اتنا فارورڈ
کریں تا کہ سارا پاکستان اس کو پڑھے ...
اور۔
ایک تحریک بن جائے ...... !!
آئیے نئے پاکستان کی بنیاد اپنے گھر سے رکھیں۔۔
نورا ڈاکو
(((((نورا ڈاکو)))))))
مولانا ضیاء اللہ صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا، فرماتے ہیں۔
"مجھے وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بھرا خط لکھا گیا کہ مولانا صاحب ہمارے گاؤں میں آج تک سیرة النبى پر بیان نہیں ہوا۔ ہمارا بہت دل کرتا ہے ،آپ ہمیں وقت عنائیت فرما دیں ہم تیاری کرلیں گے۔" میں نے محبت بھرے جزبات دیکھ کر خط لکھ دیا کہ فلاں تاریخ کو میں حاضر ہو جاؤں گا۔
دیئے گئے وقت پر میں فقیر ٹرین پر سے اتر کر تانگہ پر بیٹھ کر گاؤں پہنچ گیا تو آگے میزبانوں نے مجھے ھدیہ پیش کر کے کہا مولانا آپ جاسکتے ہیں ہم بیان نہیں کروانا چاہتے۔ وجہ پوچھی تو بتایا کہ ہمارے گاؤں میں %90 قادیانی ہیں وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ نا تو تمہاری عزتیں نہ مال نہ گھر بار محفوظ رہیں گے اگر سیرة النبى پر بیان کروایا تو۔
مولانا ہم کمزور ہیں غریب ہیں تعداد میں بھی کم ہیں اس لیئے ہم نہیں کرسکتے۔" میں نے لفافہ واپس کردیا اور کہا بات تمہاری ہوتی یا میری ہوتی تو واپس چلا جاتا بات مدینے والے آقاﷺ کی عزت کی آگئی ہے اب بیان ہوگا ضرور۔ وہ گھبرا گئے کہ آپ تو چلے جائیں گے مسئلہ تو ہمارے لئیے ہوگا۔
میں نے کہا، "اس گاؤں کے آس پاس کوئی ڈنڈے والا ہے؟" انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دور نورا ڈاکو ہے پورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے۔ میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نورے کے پاس جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے دیکھ کر نورا بولا اج کھیر اے مولوی کیوں آگئے نے ؟
میں نے کہا کہ بات حضورﷺ کی عزت کی آگئی ہے تم کچھ کرو گے؟ میری بات سن کر نورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا، "میں ڈاکو ضرور آں پر بے غيرت نئی آں۔"
وہ ہمیں لے کرچل نکلا مسجد میں 3 گھنٹے بیان کیا میں نے اور نورا ڈٹ کر کھڑا رہا آخر میں نورے نے یہ کہا کہ اگر کسی نے مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو نورے سے بچ نہیں سکے گا۔
میں وآپس آگیا کچھ ماہ بعد میرے گھر پر ایک آدمی آیا سر پرعمامہ چہرے پر داڑھی زبان پر درود پاک کا ورد میں نے پوچھا، "کون ہو..؟ ". وہ رو کر بولا، "مولانا میں نورا ڈاکو آں۔ جب اس دن میں واپس گھر کو لوٹا جا کر سو گیا . آنکھ لگی ہی تھی پیارے مصطفٰی کریمﷺ میری خواب میں تشریف لائے میرا ماتھا چوما اور فرمایا ، "آج تو نے میری عزت پر پہرا دیا ہے، میں اور میرا اللہﷻ تم پر خوش ہوگئے ہیں۔ اللہﷻ نے تیرے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے ہیں."
مولانا صاحب اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو سب کچھ بدل چکا تھا اب تو ہر وقت آنکھوں سے آنسو ہی خشک نہیں ہوتے مولانا صاحب میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں آپ کی وجہ سے تو میری زندگی ہی بدل گئی میری آخرت سنور گئی ہے۔
اے میرے پیارے اللہ جو شخص بھی اس کو شیئر کرے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب فرما۔آمین
نئی اردو ڈکشنری *_مشہور محاوارت کے درست اور سچے مطلب_*
نئی اردو ڈکشنری
*_مشہور محاوارت کے درست اور سچے مطلب_*
*1) خود کی جان خطرے میں ڈالنا*
= شادی کرنا🤩🤩😏😏😒😒😜😍😉
*2) آ بیل مجھے مار*
= بیوی سے پنگا لینا😭😭😭😢😢
*3) دیوار سے سر ٹکرانا*
= بیوی کو کچھ سمجھانا😉😉😉😌😌😌
*4) چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات*
بیوی کا مائیکے سے واپس آنا🤪🤪🧐🧐
*5). خود کشی پر ابھارنا*
= شادی کی رائے دینا 😜😜😜🤣🤣
*6). دشمنی نبھانا*
= دوستوں کی شادی کروانا😝😝😛😜😜
*8). گناہوں کی سزا ملنا*
= شادی شدہ ہوجانا😆😆😆😅
*13). خود کو لٹتے ہوئے دیکھنا*
= بیوی کی فرمائشیں پوری کرنا🤨🤨🤨🤓😄😄
*14) غلطی پر پچھتاوا کرنا*
شادی کی تصویریں دیکھنا😍😜😜😜😛😛
*15) اپنے پیر پر کلھاڑی مارنا*
بیوی کو گھمانے لے جانا😁😁😁😃😃
_*اگر کوئی اضافی محاورہ یا مندرجہ بالا میں ترمیم و اضافہ،تحریر کرنا چاہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے !!!*_
😂😂😜😜😂😂😂🤣🤣🤣🤪🤪🤪😜😜😜
اردو ہے میرا نام
اردو ہے میرا نام میں "خسرو" کی پہیلی
میں "میر" کی ہمراز ہوں "غالب" کی سہیلی
دکّن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
"سودا" کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے "میر" کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں "داغ" کے آنگن میں کھلی بن کے چمیلی
اردو ہے میرا نام میں "خسرو" کی پہیلی
"غالب" نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
"حالی" نے مرووت کا سبق یاد دلایا
"اقبال" نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا
"مومن" نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی
اردو ہے میرا نام میں "خسرو" کی پہیلی
ہے "ذوق" کی عظمت کہ دیئے مجھ کو سہارے
"چکبست" کی الفت نے میرے خواب سنوارے
"فانی" نے سجائے میری پلکوں پہ ستارے
"اکبر" نے رچائی میری بے رنگ ہتھیلی
اردو ہے میرا نام میں "خسرو" کی پہیلی
کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے میرا نام میں "خسرو" کی پہیلی
Pardah Poshi
®
ایک مصری عالم کا کہنا تھا کہ مجھے زندگی میں کسی نے لاجواب نہیں کیا سوائے ایک عورت کے جس کے ہاتھ میں ایک تھال تھا جو ایک کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا تھال میں کیا چیز ہے
*وہ بولی اگر یہ بتانا ہوتا تو پھر ڈھانپنے کی کیا ضرورت تھی*
*پس اس نے مجھے شرمندہ کر ڈالا*
یہ ایک دن کا حکیمانہ قول نہیں بلکہ ساری زندگی کی دانائی کی بات ہے.
*کوئی بھی چیز چھپی ہو تو اس کے انکشاف کی کوشش نہ کرو.*
کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں خواہ آپ کو یقین ہو کہ وہ بُرا ہے یہی کافی ہے کہ اس نے تمہارا احترام کیا اور اپنا بہتر چہرہ تمہارے سامنے پیش کیا بس اسی پر اکتفا کرو
ہم میں سے ہر کسی کا ایک بُرا رخ ہوتا ہے جس کو ہم خود اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں.
*اللہ تعالٰی دنیا و آخرت میں ہماری پردہ پوشی فرمائے*
ورنہ جتنے ہم گناہ کرتے ہیں اگر ہمیں ایک دوسرے کا پتہ چل جائے تو ہم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کریں
جتنے گناہ ہم کرتے ہیں اس سے ہزار گنا زیادہ کریم رب ان پر پردے فرماتا ہے
*کوشش کریں کہ کسی کا عیب اگر معلوم بھی ہو تو بھی بات نہ کریں*
آگے کہیں آپ کی وجہ سے اسے شرمندگی ہوئی تو کل قیامت کے دن اللہ پوچھ لے گا کہ جب میں اپنے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہوں تو تم نے کیوں پردہ فاش کیا ؟
سدا خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں
Sagar Sadiqi
ساغر صدیقی کہ والد نے ساغر کی پسند کو یہ کہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ہم خاندانی لوگ ھیں کسی تندور والے کی بیٹی کو اپنی بہو نہیں بنا سکتے غصہ میں اس لڑکی کہ گھر والوں نے لڑکی کی شادی پنجاب کہ ایک ضلع حافظ آباد میں کردی تھی جو کامیاب نہ ہوئی
لیکن ساغر اپنے گھر کی تمام آسائش و آرام
چھؤڑ چھاڑ کر داتا کی نگری رہنے لگا(داتا دربار لاہور)
جب اسکی محبوبہ کو پتا چلا ساغر داتا دربار ہے۔ تو وہ داتا صاحب آ گئی کافی تلاش کہ بعد آ خر تاش کھیلتے ھوئے ایک نشئیوں کہ جھڑمٹ میں ساغر مل ہی گیا
اس نے ساغر کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور یہ بھی بتایا کہ مجھے میرے خاونذ نے ھاتھ تک نہیں لگایا اور ہماری داستان محبت سن کر مجھے طلاق دیدی ھے اب اگر تم چاہو تو مجھے اپنا لو
ساغر نے کہا
بندہ پرور کوئی خیرات نہیں
ھم وفاؤں کا صلہ مانگتے ھیں
غربت، ڈپریشن، ٹینشن کی وجہ سے ساغر صدیقی کے آخری چند سال نشے میں گزرے اور وہ بھیک مانگ کر گزارہ کیا کرتے تھے گلیوں میں فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے لیکن اس وقت بھی انھوں نے شاعری لکھنا نہ چھوڑی۔
میری غربت نے میرے فن کا اڑا رکھا ہے مزاق۔۔
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں۔
ساغر صدیقی ۔ ۔ ۔
کہتے ہیں کہ جب جنرل ایوب خان صاحب پاکستان کے صدر تھے تو ان دنوں جنرل ایوب خان صاحب کو بھارت میں ایک مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا جب مشاعرہ سٹارٹ ہوا تو ایک شاعر نے ایک درد بھری غزل سے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔
جب وہ شاعر شاعری کر کے فارغ ہوا تو جنرل صاحب اس شاعر کو کہتے ہیں کہ محترم جو غزل آپ نے سٹارٹ میں پڑھی بہت درد بھری غزل تھی یقینا"8 کسی نے خون کے آنسووں سے لکھی ہو گی اور داد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت پسند آئی ہے تو وہ شاعر بولے جناب عالی اس سے بڑی آپ کے لئے خوشخبری اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غزل کا خالق، اس کو لکھنے والا لکھاری یعنی شاعر آپ کے ملک پاکستان کا ہے، جب جنرل صاحب نے یہ بات سنی تو آپ دھنگ رہ گے اتنا بڑا ہیرہ میرے ملک کے اندر اور مجھے پتہ ہی نہیں جب آپ نے اس شاعر سے اس غزل کے لکھاری یعنی شاعر کا نام پوچھا تو اس نے کہا جناب عالی اس درد بھرے شاعر کو ساغر صدیقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
جب جنرل صاحب پاکستان واپس آئے اور ساغر صدیقی صاحب کا پتہ کیا تو کسی نے بتایا کہ جناب عالی وہ لاہور داتا صاحب کے قریب رہتے ہیں تو جنرل صاحب نے اسی وقت اپنے چند خاص آدمیوں پہ مشتمل وفد تحائف کے ساتھ لاہور بھیجا اور ان کو کہا کہ ساغر صدیقی صاحب کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میرے پاس لاو اور کہنا کہ جنرل ایوب خان صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
جب وہ بھیجا ہوا وفد لاہور پہنچا تو انہوں نے اپنا تعارف نہ کرواتے ہوئے داتا دربار کے سامنے کھڑے چند لوگوں سے شاعر ساغر صدیقی کی رہائش گاہ کے متعلق پوچھا تو ان کھڑے چند لوگوں نے طنزیہ لہجوں کے ساتھ ہنستے ہوئے کہا کہ کیسی رہائش؟؟ کون سا شاعر؟؟ ارے آپ اس چرسی اور بھنگی آدمی سے کیا توقع رکھتے ہیں اور پھر کھڑے ان چند لوگوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھیں سامنے پڑا ہے چرسیوں اور بھنگیوں کے جھرمٹ میں، جب وہ جنرل ایوب خان صاحب کا بھیجا ہوا وفد ساغر صدیقی صاحب کے پاس گیا اور ان کو جنرل صاحب کا پیغام دیا تو ساغر صدیقی صاحب کہنے لگے جاو ان سے کہہ دو کہ ساغر کی کسی کے ساتھ نہیں بنتی اسی لئے ساغر کسی سے نہیں ملتا (جب ساغر صدیقی نے یہ بات کہی تو بشمول ساغر نشے میں مست وہاں موجود ہر نشئی ایک زور دار قہقہے کے ساتھ کچھ دیر کے لئے زندگی کے دیے غموں کو بھول گیا) بہرحال بےپناہ اسرار (ترلوں) کے باوجود وہ وفد واپس چلا گیا اور سارے احوال و حالات سے جنرل صاحب کو آگاہ کیا۔
کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خان صاحب پھر خود ساغر صدیقی صاحب سے ملنے کے لئے لاہور آئے اور جب ان کا سامنا ساغر صدیقی صاحب سے ہوا تو ساغر صدیقی صاحب کی حالت زار دیکھ کر جنرل صاحب کی آنکھوں سے آنسووں کی اک نہ رکنے والی جھڑی لگ گئ اور پھر انہوں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے غم سے چور اور نشے میں مست ساغر صدیقی سے جب مصافحہ کرنا چاہا تو ساغر صدیقی صاحب نے یہ کہتے ہوئے ان سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا
کہ
جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی،،،
اس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے
Sagar Sadiqui
*ساغر صدیقی نے ایک مرتبہ کہا تھا:*
میری ماں دلی کی تھی، باپ پٹیالے کا، پیدا امرتسر میں ہوا، زندگی لاہور میں گزاری! میں بھی عجیب چوں چوں کا مربّہ ہوں"
Badzaat
*😭ایک دل افروز واقعہ😭*
*بدذات*
راحیل میری دوسری بیوی کے پہلے شوہر سے تھا۔۔۔! جڑواں بیٹوں کی پیدائش کے وقت کچھ ایسی پیچیدگی پیدا ہوگئی کہ میری پہلی بیوی بچ نہ سکی۔۔۔! بچوں کی دیکھ بھال کہ لیئے امّاں فوری طور پر خیر النساء کو بیاہ لائیں۔۔۔! اور یوں راحیل بھی ہماری زندگی میں چلا آیا۔۔۔! پہلے دن امّاں نے اس کا تعارف کرواتے وقت کہا بیٹا! خیر النساء بہت اچھی عورت ہے۔۔۔! اور دُکھی بھی ہے تیرے گھر اور بچوں کو بہت پیار سے سنبھال لے گی۔۔۔! بس اپنے بچوں کی خاطر تجھے اس کے لڑکے کو بھی گھر میں برداشت کرنا ہو گا۔۔۔! اب وہ اُس بدذات کو بھلا کہاں چھوڑے۔۔۔؟ امّاں کی اس بات نے میرے دِل میں ایک گِرہ لگا دی۔۔۔! دِل کے ایک کونے میں کینہ پلنے لگا۔۔۔! راحیل بہت تمیز دار بچہ تھا۔۔۔! ایک چیز جو میں نے شدت سے نوٹ کی کہ میرے سرد رویئے کے باوجود وہ مُجھ سے بہت محبت کرتا۔۔۔! اور میرے رویے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔!صبح جب میں ناشتے کے لیئے کھانے کی میز پر آتا۔۔۔! راحیل انتہائی تمیز کے ساتھ السلام علیکم ابّا جان کہتا اور بھاگ کر میرے آگے اخبار رکھتا۔۔۔! میرے دِل میں لگی گِرہ ڈھیلی ہوتی کہ ساتھ ہی آواز آتی ارے بد ذات چل اپنی ماں سے کہہ جلدی ناشتہ لاۓ میرے بچے کو دیر ہو رہی ہے۔۔۔! وعلیکم السلام کے ساتھ راحیل کے سر پر پیار دینے کے لیئے اٹھتا ہاتھ وہیں میری اپاہج سوچ کے ساتھ لڑتا اور شکست کھا کر ڈھیر ہوجاتا۔۔۔! خیرالنساء نے میرے گھر اور بچوں کو اچھی طرح سے سنبھال لیا تھا وہ بہت صابر عورت تھی۔۔۔! کبھی شکوہ زبان پر نہ لاتی ۔۔۔! مُجھے یاد ہے ایک دن راحیل اُس سے پوچھ رہا تھا امّی جان بدذات کیا ہوتا ہے۔۔۔؟ میرا پورا جسم کان بن گیا میری سماعتیں شدت سے خیرالنساء کے جواب کی منتظر تھیں۔۔۔!مسکرا کر کہنے لگیں جب کوئی بہت پیارا لگے اور نظر لگنے کے ڈر سے آپ بتانا نہ چاہیں تو اُسے بدذات کہتے ہیں۔۔۔! اُس دن میں نے دیکھا راحیل بہانے بہانے سے سارا دن امّاں کے اِرد گرد پھرتا رہا۔۔۔!کبھی جاءِ نماز بچھا کر دے رہا ہے اور کبھی زرا سے کھانسنے پر پانی کا گلاس اُن کے آگے رکھ رہا ہے۔۔۔! امّاں کی آواز آئی ارے بدذات کیوں میری جان کھا رہا ہے ڈرامے باز۔۔۔! جا دفعہ ہو جا کر کچھ پڑھ لے۔۔۔! کیا جاہل رہ کر میرے بیٹے کے مال پر عیش کرتا رہے گا۔۔۔! راحیل نے کھٹ سے امّاں کے گلے میں باہیں ڈالیں چٹاچٹ اُن کی گال پر پیار کیا اچھا پیاری دادی جان کہا اور بھاگ گیا۔۔۔! میں وہیں امّاں کے تخت کے پاس بیٹھا دیکھ رہا تھا امّاں کی آنکھوں میں ہلکی سی نُور کی چمک نظر آئی اور پھر معدوم ہوگئی۔۔۔! کیسے بدقسمت تھے ہم ماں بیٹا اور کیسے خوش بخت تھے وہ ماں بیٹا۔۔۔! خیرالنساء نے بچے کے دِل میں نفرت کی گرہ نہیں لگنے دی تھی۔۔۔! اور میری ماں مُجھ اونچے لمبے مرد ، پیشہ کے اعتبار سے وکیل کے دِل میں کس آسانی کے ساتھ گِرہ لگانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔۔۔!
مُجھے جوتے جمع کرنے کا بہت شوق تھا اچھے جوتے میری کمزوری تھے۔۔۔! میری وارڈ روب میں ایک سے بڑھ کر ایک جوتا موجود تھا۔۔۔! راحیل بہت شوق سے میرے جوتے پالش کیا کرتا۔۔۔! کئی بار میں نے اسے بڑی دلجمعی سے جوتے چمکاتے دیکھا۔۔۔! اور سچ بات تو یہ ہے کہ میرا دِل خوش ہو جاتا جوتے دیکھ کر۔۔۔! مُجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے خوش ہو کر صرف اتنا کہا واہ راحیل کمال کر دیا تم نے اور اسے پانچ سو کا نوٹ انعام دیا۔۔۔! بھاگا بھاگا امّاں کے کمرے میں گیا دادی دادی دیکھیں ابّا نے مُجھے انعام دیا ہے۔۔۔! گھر کے ملازمین سے لے کر گھر میں آنے والے ایک ایک مہمان کو بتاتا کہ ابّا نے مُجھے انعام دیاہے۔۔۔! امّاں نے ہنہ بدذات دفعہ ہو جا کہہ کر منہ پھیر لیا۔۔۔! کاش امّاں اُسے خیرالنساء کی خاطر ہی ایک بار گلے سے لگا لیتیں۔۔۔! جس نے اُن کے پوتوں کو اپنے جِگر کے ٹکڑے سے بڑھ کر پیار دیا تھا۔۔۔! امّاں کی لگائی ہوئی نفرت کی دھیمی آنچ پر میری انا کا بُت پکتا رہا۔۔۔! خیرالنساء کی میرے بچوں اور گھر کے ساتھ بے پناہ محبت اور احسان بھی انا کے اس بُت کو توڑ نہ پایا۔۔۔! راحیل کی تمام خوبیوں کے باوجود میں نے کبھی اسے سینے سے نہیں لگایا تھا۔۔۔! ہاں مگر میں نے اس پر خرچ کرنے یا اس کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کی۔۔۔! خیرالنساء اتنے ہی میں مطمئن تھی۔۔۔! وقت گزرتا رہا بچے بڑے ہو گئے۔۔۔! عمر اور علی میرے جُڑواں بیٹے۔۔۔! اعلی تعلیم کے لیئے ملک سے باہر چلے گئے۔۔۔! راحیل نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔۔۔! میرے بہت چاہنے کے باوجود وہ پڑھ نہیں سکا۔۔۔! سارے محلے کا لاڈلا تھا صبح کا گھر سے نکلا شام کو گھر آتا۔۔۔! اکثر ہاتھ پر پٹی بندھی ہوتی جانے کہاں سے چوٹ لگوا کر آتا تھا۔۔۔! خیرالنساء نے میرے دریافت کرنے پر کہا فکر نا کریں مُجھے بتا کر جاتا ہے میری اس پر نظر ہے۔۔۔!
وقت نے امّاں کو ہم سے چھین لیا۔۔۔! آخری وقت میں راحیل نے امّاں کی بہت خدمت کی۔۔۔! کئی بار اپنی گود میں اُٹھا کر ہسپتال لے جانے کے لیئے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔! اُن کا کمزور وجود باہوں میں بھر کر کئی راتیں راحیل نے ہسپتال کے بیڈ پر جاگ کر گزار دیں۔۔۔! جانے کس مِٹّی سے بنا تھا یہ راحیل حالانکہ اب اس کو بدذات کا مطلب بھی سمجھ میں آنے لگا تھا۔۔۔! مرتے سَمے امّاں کے ہاتھ راحیل کے آگے جُڑے ہوۓ تھے۔۔۔! جنہیں چُوم کر اُس نے اپنے ہاتھوں سے امّاں کی آنکھیں بند کیں اور میرے ساتھ انہیں لحد میں اُتارا۔۔۔! میرے دونوں بیٹے چاہنے کے باوجود دادی کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو پاۓ۔۔۔! اُس دن امّاں کی لگائی گِرہ ڈھیلی ہوگئی بالکل ڈھیلی۔۔۔! بس ایک بار راحیل کو گلے سے لگانے کی دیر تھی کہ کُھل جاتی مگر انا کو شکست دینا کہاں میرے بس میں تھا۔۔۔! عمر اور علی نے پڑھائی مکمل ہونے کے بعد شادیاں کر لیں اور اُدھر کے ہی ہو کر رہ گئے۔۔۔! سال میں ایک بار بس ملنے کے لیئے آجاتے۔۔۔!
گھڑی پر سوئیوں کا رقص جاری تھا اب کے ڈانس سٹیپ میں وقت کا پاؤں میری قسمت پر تھا۔۔۔! مُجھے اپنی کارکردگی پر ایک بہت بڑا ایوارڈ ملنے والا تھا
کہ مُجھے فالج ہو گیا۔۔۔! چمکتے بوٹ پہننے والے پاؤں مفلوج ہو گئے۔۔۔! کیا عثمان شاہ ننگے اور ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ وہیل چیئر پر ایوارڈ وصول کرے گا۔۔۔! جس انا کے بُت کو میں نا توڑ پایا اللہ نے اُسے توڑ ڈالا تھا۔۔۔! نوکروں کی فوج کے باوجود راحیل میرے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتا۔۔۔! تقریب والے دن اُس نے مُجھے اپنے ہاتھوں سے بہترین لباس پہنا کر تیار کیا جیسے کوئی باپ اپنے بچے کو سکول کے پہلے دن کے لیئے تیار کرتا ہو۔۔۔! اور پھر ایک انتہائی خُوبصورت کالے چمڑے کے بوٹ میرے پاؤں میں پہنانے لگا۔۔۔! جو کہ اسپیشل میرے پاؤں کے لیئے بنے تھے۔۔۔! مُجھے جوتوں کی بہت پہچان تھی جوتے کسی بہت مہنگی کمپنی پر آرڈر دے کر بنواۓ گئے تھے۔۔۔! ایوارڈ کے لیئے میری وہیل چیئر چلانے کے لیئے اسپیشل انتظام تھا۔۔۔! مگر راحیل خود میری وہیل چیئر چلا کر سٹیج پر لایا۔۔۔! ایوارڈ ملنے کے بعد میرے گال پربوسہ دیا اور کہنے لگا I am proud of you baba...!
میں کہنا چاہتا تھا۔۔۔! میں بہت بار راحیل سے کہنا چاہتا تھا I am proud of you my son...! مگر کبھی نہ کہہ سکا۔۔۔! وہ ایک بار پھر جیت گیا۔۔۔! یہ مائیں بڑی ظالم ہوتی ہیں ان کی لگائی گرہیں بہت سخت ہوتی ہیں وقت کے ساتھ ڈھیلی تو پڑ جاتی ہیں مگر کُھل نہیں پاتیں۔۔۔! میرے کان میں امّاں کی آواز آئی بدذات۔۔۔! آج شاید میری انا کا امتحان تھا۔۔۔! ایوارڈ کی تقریب کے بعد راحیل مُجھے جوتوں کی ایک فیکٹری میں لے گیا۔۔۔! اندر داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا ہر کوئی راحیل کو “سلام صاحب سلام صاحب” کہہ رہا ہے اور پھر راحیل مُجھے ایک دفتر میں لے گیا جہاں ایک بہت خُوبصورت بزرگ بیٹھے تھے۔۔۔! راحیل کو دیکھتے ہی اُٹھ کر آئے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگے مبارک ہو عثمان شاہ صاحب۔۔۔! اللہ کو کوئی تو آپ کی بات پسند آئی ہو گی جو اُس نے آپ کو راحیل جیسا بیٹا دیا۔۔۔! یہ آپ کے بیٹے کی فیکٹری ہے۔۔۔! آپ کا بیٹا دنیا کا سب سے مشہور شُو میکر ہے۔۔۔!
مُجھے یاد ہے ایک دفعہ میری پسند کے بہت مہنگے جوتے خراب ہو گئے تھے۔۔۔! جوتے اٹلی کے تھے اور واپس کمپنی میں بھیجنے میں بہت وقت لگتا۔۔۔! راحیل نے بڑے ماہر موچی “بابا جی“ کو ڈُھونڈ کر اُن سے میرے جوتے مرمت کرواۓ۔۔۔! یہ وہی جوتے تھے جن پر خوش ہو کر میں نے اُسے پانچ سو کا نوٹ انعام میں دیا تھا۔۔۔! باباجی کی مہارت دیکھتے ہوۓ میرے شوق کی خاطر راحیل نے اُن سے جوتے بنانے کا فن سیکھا۔۔۔! اور اب راحیل کے بناۓ جوتے پوری دنیا میں مشہور تھے۔۔۔! یورپ سے امراء راحیل کو اپنے جوتے بنوانے کے لیئے بلاتے مگر وہ مُجھے اور اپنی ماں کو چھوڑ کر کبھی نہیں گیا۔۔۔! بابا جی نے ساری کہانی سنائی۔۔۔! اُس وقت راحیل کے پٹی بندھے ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے آتے رہے۔۔۔! اُس کے ہاتھوں میں چُبھنے والی سوئیاں میرے سارے جسم میں چھید کر گئیں۔۔۔! میرے جسم میں سوئیاں ہی سوئیاں چُبھی تھیں۔۔۔! کون نکالے گا اُنہیں کیا میری توبہ میرے زخم بھر پاۓ گی۔۔۔! گرہ کُھل گئی تھی انا کا بُت ٹوٹ چکا تھا۔۔۔! میں نے راحیل کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔! اُس راحیل کے سامنے جسے اماں بدذات کہتی تھیں۔۔۔! راحیل نے میرے آنسو صاف کیئے۔۔۔! میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا میرے سب دوستوں کے پاس ابو تھے۔۔۔! نانی مُجھے اللہ سے دُعا مانگنے کا کہتیں اور میں نے بہت بار اللہ سے دعا مانگی۔۔۔! آپ میری دُعاؤں کا ثمر تھے۔۔۔! میرے اللہ کا انعام تھے۔۔۔! میں آپ سے محبت کیسے نہ کرتا۔۔۔! آپ مُجھے بہت پیارے ہیں ابّا۔۔۔!
آپ کی نظرِ کرم پانچ سو کا وہ ایک نوٹ وہ میری زندگی کی کتاب کا سب سے بہترین Note بن گیا۔۔۔! جس نے میری زندگی بدل ڈالی۔۔۔! میں اپنے ابا کا پسندیدہ بیٹا بننا چاہتا تھا ۔۔۔!
اور وہ بن گیا۔۔۔! وہ میرا سب سے پیارا بیٹا بن گیا ۔۔۔!خیرالنساء پاس بیٹھی رو رہی تھی مگر اُس کی پیشانی چمک رہی تھی۔۔۔! وہ راحیل کی ماں تھی اُس نے راحیل کو محبت کرنا سیکھایا تھا۔۔۔! کاش میری ماں نے بھی مجھے محبت کرنا سیکھایا ہوتا۔۔۔! اُس رات جب راحیل نے اپنے ہاتھوں سے بناۓ ہوۓ میرے بوٹ اتار کر مجھے بیڈ پر لٹایا۔۔۔! تو زندگی میں پہلی بار میں نے اُس کا منہ چوم کر کہا I am proud of you my son...!
I love you more than everything
Vivo V15 and V15 Pro are now Available to Pre-Order
Chinese smartphone maker Vivo is the pioneer of the pop-up front camera setup. Retractable front camera seems like an ideal solution towards...
-
I'm selling this on #OLX: Muft jarsi trouser hasil karain sirf 350 main . www.olx.com.pk/item/858353609
-
*اللہ ناراض ھو تو کیا ھوتا ھے۔؟* *بہت سوچنے اور ڈرنے والی باتیں۔۔۔دیکھیں کہیں ھم تو ان میں شامل نہیں۔۔* *محسوس اور نامحسوس ہونے والی سزائی...
-
Chinese smartphone maker Vivo is the pioneer of the pop-up front camera setup. Retractable front camera seems like an ideal solution towards...
